امریکہ میں کھٹمل پڑ گئے
دوسری جنگ عظیم سے قبل امریکہ میں کھٹملوں کی شکایت عام تھی
امریکہ میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر کھٹملوں کو ختم کرنے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں خیال تھا کہ کھٹمل کئی دہائی پہلے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں لیکن وہ مختلف شہروں میں ہسپتالوں، پناہ گاہوں، ہاسٹلوں اور اجتماعی خواب گاہوں میں دوبارہ نمودار ہو گئے ہیں۔
یہ خون چوسنے والے کھٹمل بستروں، گدوں، پلنگوں، صوفوں کے جوڑوں یا سیلائیوں میں پائے جاتے ہیں اور عام طور پر رات کو حملہ آور ہوتے ہیں۔
ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے کاٹنے سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں لیکن عام طور پر ان کے کاٹنے سے انسان کو خارش یا کھجلی ہوتی ہے اور لوگوں کی نیند خراب ہو جاتی ہے۔
امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کا تحفظ ماحولیات کا ادارہ ’اینوائرمنٹل پرٹیکشن ایجنسی‘ نے کھٹملوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی شکائتوں کے پیش نظر یہ کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ میں کھٹملوں کی شکایت عام تھی۔ عام طور پر غریب گھروں اور سستے ہوٹلوں میں ان کی شکایت عام تھی۔
ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی آمد و رفت میں اضافہ، امریکہ میں نقل مکانی اور کیٹریوں کا سدباب کرنے کے طریقے کار میں تبدیلی کھٹملوں پڑنے کا سبب بنے ہیں۔
ورجینیہ یونیورسٹی کے ایک ماہر ڈینی ملر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دنیا بھر میں کھٹملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتی کہ کتنے لوگ کھٹملوں سے تنگ آ کر نہانے کے ٹبوں میں سوتے ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ کھٹمل پڑنے کی ایک وجہ یہ بھی کہ ان کو مارنے کے لیےبہت کم ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جن کو گدوں پر چھڑکنے کی اجازت ہے۔
تحفظ ماحولیات کے ادارے نےگزشتہ پچاس سالوں میں کھٹملوں کے مارنے والی بہت سے دوائیوں کو مضر صحت قرار دے کر ان کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
ہمارے گھر میں بھی ہو گئے ہیں کھٹمل کیا کریں ہم؟
ReplyDelete