Thursday, April 30, 2009

محبت کے کئی روپ

محبت قدرت کا انعام ہے محبت کے کئی روپ ہیں محبت کے بغیر روح کا چشمہ خشک رہتا ہے ۔تا ہم یہ قدرت کا سب سے بڑا انعام ہے اور دنیا کی حسرتوں میں سب سے بڑی حسرت ہے ۔سچی محبت میں حسن بھی ہوتا ہے خلوص بھی،وہ فولاد کی طرح مضبوط رہتی ہے ،محبت میں اتنی طاقت ہے کہ وحشی کو انسان بنا سکتی ہے۔

انسانو ں سے محبت دراصل خدا سے محبت کرنا ہے ۔ اور انسانو ں کی خدمت میں خدا کی خدمت ہے ۔ محبت کو ہم جس سے بھی تشبیہ دیں یہ اس میں ڈھل جاتی ہے ۔ یہ اگر خدا سے ہے تو بندگی ہے والدین سے ہو تو اطاعت ہے ۔بندہ کا محبت پر کوئی اختیار نہیں ہے لیکن حسن کا اختیار ہے۔حسن فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو کس سے محبت ہوگی ۔خدا خود جمیل ہے ا ور چونکہ حسن خدا کا حسن ہے اس لئے خدا ہی فیصلہ کر ے گا کہ کس وقت کتنا اپنے بندہ پر جلوہ گر ہو ۔ ۔

محبت ایک ایسی شئے کا نام ہے جو کسی کے بتانے اور سیکھنے کی نہیںبلکہ یہ اپنا راستہ خود نکال لیتی ہے ۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو سنگ دل کو نرم خو اور بزدل کو بہادر بناتی ہے۔محبت خوشیا ں دیتی ہیں تو ساتھ ساتھ غم سہنا بھی سکھاتی ہے۔محبت میٹھی نیند سلا تی ہے اور راتوں کی نیند بھی اڑاتی ہے ۔محبت کیلئے ضرور ی نہیں کہ محبوب کا چہرہ بھی خوبصور ت ہو۔کیونکہ محبت خود ایک خوبصورت جذبہ ہے ۔

محبت کا موضوع ہر تہذیب میں کثرت سے اواراق کی زینت بنا اور اس کے باوجو دمحبت کے لٹریچر کی ورق گردانی کرنے والوں کی غالب اکثریت کو نہ ہی پوری طرح محبت کی سمجھ آئی اور نہ ہی محبت کی وسعت کا اندازہ ہوا کہ محبت کیا ہے ؟بعض کہتے ہیں محبت خیال ہے ' اور بعض محبت کے جذبہ کو زندگی کی حقیقت جانتے ہیں۔لیکن یہ محبت کا جذبہ خلقی ہے یعنی پیدائش سے ہی سے بچہ میں محبت کی کشش کا ظہور ہوتا ہے بارہا دیکھا گیا کہ پیدائش کے بعد قدرتاََ اسکا میلان طبیعت ماں کی طرف بڑھتا جاتا ہے ۔بچہ کو ماں سے تعلق محبت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اور اسے ہر وقت ماں کا خیال دامن گیر رہتا ہے ۔محبت کی حقیقی عکاسی فطرت کے حوالہ سے یوں بیان ہوئی ہے۔'' منجملہ انسان کی طبعی حالتوں کے جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہیں' ایک اس بر تر ہستی کی تلاش ہے جس کے لئے اندر ہی اندر انسان کے دل میں ایک کشش موجود ہے اور اس کی تلاش کا اثر اسی وقت سے محسوس ہونے لگتا ہے جبکہ بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتاہے ۔کیونکہ بچہ پیدا ہو تے ہی پہلے روحانی خاصیت اپنی جو دکھلا تا ہے وہ یہی ہے کہ وہ ماں کی طرف جھکا جاتا ہے اور طبعاََ اپنی ماں کی محبت رکھتا ہے اور پھر جیسے جیسے حواس اس کے کھلتے جاتے ہیں اور شگوفہ فطرت اس کا کھلتا جاتا ہے یہ کشش محبت جو اس کے اندر چھپی ہوئی تھی اپنا رنگ و روپ نمایاں طور دکھاتی چلی جاتی ہے ۔ پھر تو یہ ہوتا ہے کہ بجز اپنی ماں کی گود کے کسی جگہ آرام نہیں پاتا اور پورا آرام اس کا اسی کے کنار عاطفت میں ہوتا ہے ۔اور اگر ماں سے علیحدہ کردیا جائے اور دور ڈال دیا جائے تو تمام عیش اس کا تلخ ہو جاتا ہے ۔اور اگرچہ اس کے آگے نعمتوں کا ایک ڈھیر ڈال دیا جائے جاوے تب بھی وہ اپنی سچی خوشحالی ماں کی گود ہی میں دیکھتا ہے اور اس کے بغیر کسی طرح آرام نہیں پاتا ۔

سو وہ کشش محبت جو اس کو اپنی ماں کی طرف پیدا ہوتی ہے وہ کیا چیز ہے ؟ در حقیقت یہ وہی کشش ہے جو معبود حقیقی کے لئے بچہ کی فطرت میں رکھی گئی ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو انسان تعلق محبت پیدا کرتا ہے درحقیقت وہی کشش کام کرر ہی ہے اور ہر ایک جگہ جو یہ عاشقانہ جوش دکھلاتا ہے در حقیقت اسی محبت کا وہ ایک عکس ہے ۔گویا دوسری چیزوں کو اُٹھا اُٹھاکر ایک گمشدہ چیز ( محبوب حقیقی کی محبت ) کی تلاش کر رہا ہے۔جس کا نام وہ بھول گیا ہے ۔سو انسان کا مال سے یا اولاد یا بیوی سے محبت کرنا یا کسی خوش آواز کے گیت کی طرف اس کی روح کا کھنچے جانا در حقیقت اسی گم شدہ محبوب کی تلاش ہے ۔۔( منقول از کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ٥٨ ' ٥٩)

پس محبوب حقیقی کی محبت کا یہ جذبہ فطرت میں ودیعت کردہ ہے اور اسی جذبہ کے تحت انسان کی خواہش ہے کہ اُسے ایک محبت کرنے والی ہستی مل جائے ۔ گویا یہ جذبہ محبت انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک بلکہ ایک نا معلوم زمانہ تک اس کے ساتھ جاتا ہے ۔پس انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کشش محبت رکھ دی درحقیقت یہ وہی کشش محبت ہے کہ انسان ہر جگہ انسانی رشتوں میں عاشقانہ جوش دکھلاتا ہے در اصل انسانی رشتوں کی محبتیں اسی معبود حقیقی کا عکس ہیں۔ جس کی انسانی روح متلاشی ہے ۔ محبت کا بیج اس کے دل میں پھوٹتا ہے ۔ اور محبت کا متلاشی انسانی رشتوں میں محبت کے بیج کی نشونما کرتا ہے ۔محبت کا متلاشی پہلے ماں میں تسکین و حفاظت تلاش کرتا ہے ۔پھر اسے دوستوں میں ڈوندھتا ہے اور پھر اپنی زوج میں پانے کی کوشش کرتا ہے ۔مگر تمام چیزیں وقتی توجہ اور تسکین و حفاظت کا موجب بنتی ہیں مگر ابدی سکون نہیں دیتیں اور انسان کسی ایسی ہستی کو چاہتا ہے کہ جو صرف وقتی سکون دینے والی نہ ہو بلکہ وہ ایسی ہستی ہو جس سے اس کی روح کا اتصال ہوسکے ۔گویا ایسی محبت کرنے والی ہستی کی تلاش جاری رہتی ہے ۔ جو اس کی روح کی حقیقی زوج کی بننے کی خوبیاں رکھتی ہو جو سب دنیوی رشتوں سے اعلیٰ ارفع ہو۔ دنیاوی رشتے جو خدا تعالیٰ کے ہی پیدا کردہ ہیں اور یہ رشتے خدا کی محبت کا عکس ہیں۔تاکہ انسان محبت کے رشتوں سے گزر کر اپنے دل کو مختلف قسم کی محبتوں سے گداز کرکے خود کو محبوب حقیقی کی محبت کے قابل خود کو بنا سکے ۔ 

۔غرضیکہ یہ ایک عام زوجیت ( جوڑا ) ہے جو دنیا میں نظر آتی ہے ۔علاوہ ان کے اخصُ زوجیت ہے کہ جس طرح ایک چھلکے سے دوبادام نکلتے ہیں اور اگر ان کو جوڑا جائے تو وہ ایک ہوسکتے ہیں ۔پس اس لئے جوڑے کا صحیح جوڑ ملنا ضروری ہے ۔پس حقیقی امن اور راحت کا قیام عورت مرد کے صحیح جوڑے کے ملنے سے ہی میسر آسکتا ہے ۔

خداتعالیٰ نے مرد عورت میں اپنی مخفی محبت پیدا کردی اور پھر اس کے جوڑے میں ایک دوسرے لئے کشش اور محبت رکھ دی ۔ اور مرد میں عورت کی اور عورت میں مرد کی خواہش پیدا کی۔وہ مُبہم خواہش ہے اصل خواہش خدا کی ہی ہے ۔ محبت کے مختلف رنگ اور روپ ہیں ۔لیکن زیادہ تر محبتیں بے لوث نہیں ہوتیں بلکہ اغرا ض مین لپٹی ہوئی ہوتی ہیں یعنی ایسی محبت کو الفاظ کا لبادہ پہنا کر اپنی محبت پر یقین دلانا مقصود ہوتا ہے۔ بعض لوگ خوبصورت الفاظ میںلپٹی ہوئی اظہار محبت کو محبت سمجھ کر کسی کی محبت پر یقین کرلیتے ہیں۔ایسی محبتوں کے ظاہر پر یقین کرلینے والوں کو باربار محبت کے نام پر دھوکے کھانے پڑتے ہیں۔اغراض پر مبنی وقتی محبت کا ورد زبانوں پر جاری ہے اور ایسی محبت کا چرچا گھروں میں گلیوں بازاروں میں ہر جگہ سُنا ئی دیتا ہے ۔یوں تو جیسے ہرشخص جانتا ہے کہ بے شمار رشتوں کو محبت کا نام دے دیا گیا ۔صرف نام دینے سے محبت پروان چڑھ نہیں سکتی ۔محبت کے تقاضے پورے کئے بغیر محبوب کے دل میں اپنی جگہ بنا ئی نہیں جا سکتی ۔ 

لیکن ایک دور تھا کہ ہماری مشرقی سوسائیٹی میں محبت وفا کے مثالی کردار نظر آتے تھے ۔لیکن آج کے دور میں زیادہ تر مشرقی خاندانوں میں سب کچھ نظر آتا ہے بے لوث محبت نہیں ملتی ۔ ایسے خاندان دل میں بغض و کینے پالنے والے کسی کو نقصان پہچانے کیلئے محبت کا لبادہ پہن کر منافقت کرتے ہیں ۔ پس ہمیں زیادہ تر محبت کے دعاوی تو نظر آتے ہیں محبت نظر نہیں آتی ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کے پیچھے عورت کے لئے اور عورت کے پیچھے اپنی محبت کو چھپادیا اور مرد عورت کے درمیان ایک خواہش رکھ دی کہ وہ اپنے جوڑے سے تعلق پیدا کریں اور اپنے جوڑ ے میں اپنی محبت تلاش کریں اور اپنے رفیق زندگی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کے جوڑے بنائے چرند پرند کے بھی جوڑے بنائے مرد عورت کا بھی جوڑا بنایااور مرد میں عورت کی اور عورت میں مرد کی خواہش رکھ دی اور ان کے آپس میں تعلق محبت ہی انسانی رشتوں کی ضرورت تمام انسانی رشتوں کی محرک ہے ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر نفس کا جوڑا بنایا ( سورہ شوری ٰ آیت ١٢) گویا کوئی نفس ایسا نہیں کہ جس کے لئے ویسا جوڑ ا نہ ہو۔ ۔صوفیا نے لکھا ہے کہ ارواح بھی اپنے جوڑے کی تلاش میں پھرتی رہتی ہیں ۔جب جوڑا مل جائے تو تب تسلی پاتی ہیں ۔

لیکن آزاد منش جوڑوں میں ( مغربی تہذیب کے دلدادہ مشرقی جوڑے ) عام طور پر اپنا جوڑا بنانے کی خواہش ایک عارضی جوش محبت ( جو زیادہ تر شہوت کے زیر اثر ہوتا ہے ) کی بناء پر آپس میں تعلق قائم کر لیتے ہیں ۔ لیکن بعد میں انہیں اپنے جوڑے کے غلط انتخاب کی خفت اُٹھانی پڑتی ہے (یہ اہل یورپ کا تلخ تجربہ ہے ) ان کے دانشور کہتے ہیں جب کسی اجنبی سے محبت ہوجاتی ہے تو اس کے لئے روح کو ایک قسم اتصال ہوجاتا ہے ۔لیکن پھر طرفین کو احساس ہونے لگتا ہے کہ انہوںنے غلطی کی ہے 'اس وجہ سے وہ متحد نہیں رہ سکتے اور اصل اتحاد اُس وقت ہوتا ہے جب حقیقی جوڑا آپس میں مل جائے ۔ آجکل علم النفس کے ماہرین ہیں۔ ان کا بھی یہی خیال ہے کہ جب کوئی شادی کامیاب ہوتی ہے تو اس لئے کامیاب ہوتی ہے کہ وہ صحیح جوڑا ہوتا ہے ۔اورجب کوئی شادی ناکام ہوتی ہے تو اس کے لئے وہ ا صلی جوڑا نہیں ہوتا ۔ 

پس حقیقی امن اور راحت کا قیام عورت مرد کے صحیح و حقیقی جوڑے کے ملنے سے ہی میسر آسکتا ہے ۔ انسانی تکمیل کے لئے اگر جوڑا بہت ضروری ہے تو جوڑے کا صحیح انتخاب اس سے بھی زیادہ ضرور ی ہے ، حقیقی جوڑے کے انتخاب میں جہاں احتیاط و بہترین تدابیر ضروری ہیں وہاں خدا سے دعا اور اس کی استمداد بھی ضروری ہے ۔مگر انسان مکمل طور پر دنیوی رشتوں یعنی زمینی سہاروں پر تکیہ نہیں کر سکتا ( یعنی اپنے مناسب حال صحیح جوڑے کی مل جانے کے باوجود ) ایک نامعلوم محبت کی کمی اسے ستائے رکھتی ہے ۔ 

غالباََ اسے ایسی محبت کی تلاش ہے ( جو اس کی فطرت کو لازم پڑی ہوئی ہے ) وہ ایک اعلیٰ ارفع برتر ہستی کی محبت کی کشش ہے جو انسان کے اندر ہی اندر انسان کی فطرت کو لاحق ہے ۔کیونکہ ہرجگہ جو انسان عاشقانہ جوش دکھلا تا ہے وہ د ر حقیقت اسی ( معبود حقیقی ) کی محبت کا وہ ایک عکس ' اور اس عکس محبت نے انسان کی فطرت میں لگی ہوئی پیاس کی پوری تشفی کے سامان نہیں کئے ۔ یعنی ان تمام( عکس) محبت کے رشتوں سے جن سے انسان گزر کے آ یا تھادر اصل ( یہ محبتیں ) معبود حقیقی کی صفات کے پر تو تھے پس عکس ' عکس کی حد تک رہتا ہے ۔اورجب دنیوی رشتوں کی اس پر حقیقت عیا ں ہوجائے اور جب محبت کے طلبگار کو اس کا ادراک معرفت ہوجاتی ہے کہ یہ دنیوی رشتے حقیقت کا روپ دھار نہیں سکتے ۔تو وہ خدا کے بتائے ہوئے رستہ پر چل کر تعلق باللہ قائم ہو جانے کے بعد اپنے گم شدہ محبوب برتر ہستی کی تلاش محبت کا مسافر اپنا سفر جاری رکھتا ہے ۔ لیکن انسان اپنی ناتمام عقل سے اس کو یعنی خدا کی محبت کو پا نہیں سکتا۔لیکن جو خداکے رستہ کا مجاہد بن کر اس کے بتائے ہوئے رستہ پر جدوجہد جاری رکھتا ہے۔اور اس کے لئے اصل مقصود پانے کے لئے اس نے وسیلہ دعا ٹھہرایا ۔ اُد عُونیَِ اَ ستَجِب ُ لُکم( المومن : ٦١) یعنی تم دعا کرو میں قبول کروں گا۔'' بار بار دعا کے لئے رغبت دلائی تاکہ انسان طاقت سے نہیں خدا کی طاقت سے خدا کو پاوے ۔

Wednesday, April 22, 2009

یونیسکو کی مفت ڈیجیٹل لائبریری

یونیسکو کی مفت ڈیجیٹل لائبریری

یہ لائبریری اقوامِ متحدہ کی سات سرکاری زبانوں میں دستیاب ہے

اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے، یونیسکو نے انٹرنیٹ پر ایک ایسی ڈیجیٹل لائبریری کی بنیاد رکھی ہے جس پر پوری دنیا کی لائبریریوں اور قدیم دستاویزات کا مواد مہیا کیا گیا ہے۔

اس مواد میں گیارہویں صدی کا ایک جاپانی ناول، امریکہ کے نام کے ساتھ پہلا نقشہ اور جنوبی افریقہ سے ایک آٹھ ہزار سال پرانی ہرن کی تصویر بھی شامل ہے۔

دنیا کی تین اہم ڈیجیٹل لائبریریوں میں شامل یہ لائبریری دنیا کا ہر فرد بغیر کسی معاوضے کے استعمال کر سکتا ہے۔

یہ لائبریری اقوامِ متحدہ کی سات سرکاری زبانوں میں دستیاب ہے جن میں انگریزی، عربی، چینی، فرنچ، پرتگیزی، روسی اور ہسپانوی شامل ہیں۔

یونیسکو کا کہنا ہے کہ یہ لائبریری دنیا کے ثقافتی خزانوں کو ڈیجیٹل شکل میں ایک وسیع طبقے تک پہچانے کی کوشش ہے اور امید ہے کہ اس سے غریب اور امیر کے درمیان ’ ڈیجیٹل تقسیم‘ کے خاتمے میں مدد ملے گی

Tuesday, April 21, 2009

شاہ دولہ کے چوہے (گجرات) فیچر

Click to View Enlarge


Click to View Enlarge...

جنوبی ایشیائی ورزش سے دور

جنوبی ایشیائی ورزش سے دور

جائزے میں افریقی اور یورپی بچوں کو بھی شامل کیا گیا

ایک ریسرچ کے مطابق برطانیہ میں جنوبی ایشیائی بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم ورزش کرتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں امراضِ قلب کے جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایشیائی لوگوں میں بڑے ہو کر ٹائپ ٹو کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کاخطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اس جائزے میں برمنگھم، لیسٹر اور لندن کے نو سے دس سال کی عمر کے 2000 بچوں کا جائزہ لیا گیا۔

برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر مائک نیپٹن کا کہنا ہے کہ ایشیائی بچوں میں ورزش کا رجحان بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس جائزے میں افریقی اور یورپی بچوں کو بھی شامل کیاگیا تھا۔ برطانیہ کےجنوبی ایشیائی بچوں کا زیادہ تر وقت کمپیوٹرگیمز کھیلنے یا پھر ٹی وی کے سامنےگزرتا ہے اور وہ دوسرے برطانوی بچوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کم متحرک ہوتے ہیں۔

ان بچوں میں صرف پچپن فیصد بچے ہی اس معیار پر پورے اتر سکے جس کے تحت دن میں کم سے کم ایک گھنٹہ ہلکی ورزش کی جانی ضروری ہے۔ ان کے مقابلے ستر فیصد یورپی بچے اور 69 فیصد سیاہ فام بچے اس معیار پر پورے اترے۔

ڈاکٹر مائک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی نسل کے بچوں کو جسمانی طور پر متحرک رکھنے سے بڑی عمر تک ان کی صحت اچھی رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس جائزے سے ہمیں اس بات کو سمجھنے میں بھی مدد ملےگی کہ برطانوی جنوب ایشیائی لوگوں میں ٹائپ ٹو قسم کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کا خطرہ کیوں ہوتا ہے اور اس خطرے کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔

ہم جنس پرستی کی مخالفت مہنگی پڑی

ہم جنس پرستی کی مخالفت مہنگی پڑی

مس کیری

ہم جنس پرستی کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے مس امریکہ کا تاج جیتنے میں ناکام ہوئی: مس کیلیفورنیا

مس امریکہ نامی مقابلہ حسن میں دوسرے نمبر پر آنے والی مس کیلیفورنیا کیری پریجن نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کی سخت مخالفت کی وجہ سے وہ مقابلہ حسن جیت نہیں سکیں۔

ٹی وی پر براہ راست آنے والے مقابلہ حسن میں کیری پریجن نے کہا تھا کہ ان کا یقین ہے کہ شادی صرف مرد اور خاتون کے درمیان ہونی چاہیے۔

نامور شخصیات پر بلاگ لکھنے والے پریز ہیلٹن نے کہا ہے کہ مقابلہ حسن کے دوران ایک جج نے ہم جنس پرستی کے حوالے سے کیری پریجن سے ایک سوال کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیری کے جواب کی وجہ سے امریکہ میں رہنے والے لاکھوں ہم جنس پرست، ان کے طرف دار اور ان کے رشتہ دار دل برداشتہ ہوئے ہیں۔

مس امریکہ کے مقابلے کے بعد مس کیلیفورنیا نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستی کے خلاف سخت گیر مؤقف کی وجہ سے وہ مس امریکہ کا تاج جیتنے سے محروم ہوئیں ہیں۔ مقابلے کے دوران مس پریجن نے کہا تھا ’ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں آپ شادی کے لیے ہم جنس یا مخالف جنس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘ ان کے کہے گئے یہ الفاظ اب یوٹیوب پر کافی مشہور ہو چکے ہیں۔

ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں آپ شادی کے لیے ہم جنس اور یا مخالف جنس کا انتخاب کر سکتے ہیں

مس کیلیفورنیا

انہوں نے مزید کہا کہ شادی صرف مرد اور خاتون کے درمیان ہونی چاہیے اور اس پر لوگوں کو کوئی دکھ نہیں ہونا چاہیے۔ مس پریجن کے بیان پر حاضرین نے آوازیں کسیں اور بعض نے بیان کوسراہاں۔

شو کے بعد بات کرتے ہوئے مس کیری نے کہا کہ انہوں نے جو محسوس کیا وہ کہہ دیا اور جو رائے دی وہ ان کے نزدیک ٹھیک ہے اور صرف اتنا ہی کر سکتی ہیں۔

انہوں نے ایک ٹی وی چینل اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرستی کے سوال کی وجہ سے وہ مقابلہ حسن میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ یقیناً مقابلہ جیت جاتیں۔

مس امریکہ نامی مقابلہ حسن کے انعقاد کرنے والے کیتھ لیوس نے کہا ہے کہ مس پریجن کے بیان پر انہیں افسوس ہوا اور وہ رنجیدہ ہیں۔

واضح رہے کہ ہم جنس شادیوں کا مسئلہ امریکہ کی سیاست میں بہت نمایاں ہے اور اس وقت چار امریکی ریاستیں ہم جنس شادیوں کی قانونی اجازت دے چکی ہیں جبکہ بہت ساری دیگر ریاستیں اجازت دینے کے حوالے سے قانون سازی کر رہی ہیں۔

Saturday, April 18, 2009

اٹھارہ سالہ ہیکر کا بطور مشیر تقرر

اٹھارہ سالہ ہیکر کا بطور مشیر تقرر

اوئن نے انٹرنیٹ صارفین کو نیٹ ورکنگ سے متعلق خطرات سے آگاہ کیا

نیوزی لینڈ کی ایک بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی نے اپنے کارپوریٹ صارفین کو صلاح دینے کے لیے ایک ایسے لڑکے کو نوکری پر رکھا ہے جو کہ ایک بین الاقوامی سائبر کرائم نیٹ ورک کا رکن ہونے کا اعتراف کر چکا ہے۔

ٹیلسٹرا کلیئر نامی فرم کا کہنا ہے کہ سابقہ ہیکر اوئن تھار واکر انٹرنیٹ جرائم کے حوالے سے ان کے صارفین کو مشورے فراہم کرے گا۔

ماضی میں اوئن واکر کا تعلق ایک ایسے گروہ سے رہ چکا ہے جس نے دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی تھی۔ صرف سولہ برس کی عمر میں ہی واکر کو یورپی، امریکی اور خود نیوزی لینڈ کے تفتیشی اداروں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اوئن نے ایسے سائبر جرائم کرنے والےگروہ سے تعلق کا اعتراف کیا تھا جس نے نجی بینک کھاتوں سے کم |ز کم بیس اعشاریہ چار ملین ڈالر چرائے تھے

تاہم ٹیلسٹرا کلیئر کے ترجمان کرس مرامز کے مطابق ہیکنگ سے تائب ہونے کے بعد اوئن واکر نے متعدد ایسی سیمیناروں سے خطاب کیا ہے جس میں صارفین کو ان کے نیٹ ورک کو نشانہ بنانے والے خطرات کے بارے میں بتایا گیا۔ ان کے مطابق ’ اس کا مقصد انہیں بتانا تھا کہ انہیں کس قسم کے سائبر خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔

اوئن کو سنہ 2007 میں ہملٹن سے گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت نے اوئن کو دس ہزار ڈالر جرمانہ تو کیا تھا تاہم انہیں قید کی سزا نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نےگزشتہ برس عدالت کے سامنے سائبر کرائم کے چھ الزامات اور ایک ایسے سائبر جرائم کرنے والےگروہ سے تعلق کا اعتراف کیا تھا جس نے نجی بینک کھاتوں سے کم |ز کم بیس اعشاریہ چار ملین ڈالر چرائے تھے۔

اگرچہ اوئن نے خود لوگوں کے اکاؤنٹ سے رقم نہیں چرائی تھی تاہم انہیں ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے کے لیے اکتیس ہزار ڈالر دیے گئے تھے جس کی مدد سے جرائم پیشہ افراد نے صارفین کے پاس ورڈز اور کریڈٹ کارڈ معلومات تک رسائی پائی تھی۔

Friday, April 17, 2009

Khatmal in America

امریکہ میں کھٹمل پڑ گئے

دوسری جنگ عظیم سے قبل امریکہ میں کھٹملوں کی شکایت عام تھی

امریکہ میں پہلی مرتبہ سرکاری طور پر کھٹملوں کو ختم کرنے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

امریکہ میں خیال تھا کہ کھٹمل کئی دہائی پہلے مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں لیکن وہ مختلف شہروں میں ہسپتالوں، پناہ گاہوں، ہاسٹلوں اور اجتماعی خواب گاہوں میں دوبارہ نمودار ہو گئے ہیں۔

یہ خون چوسنے والے کھٹمل بستروں، گدوں، پلنگوں، صوفوں کے جوڑوں یا سیلائیوں میں پائے جاتے ہیں اور عام طور پر رات کو حملہ آور ہوتے ہیں۔

ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کے کاٹنے سے بیماریاں بھی پھیلتی ہیں لیکن عام طور پر ان کے کاٹنے سے انسان کو خارش یا کھجلی ہوتی ہے اور لوگوں کی نیند خراب ہو جاتی ہے۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ کا تحفظ ماحولیات کا ادارہ ’اینوائرمنٹل پرٹیکشن ایجنسی‘ نے کھٹملوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی شکائتوں کے پیش نظر یہ کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم سے پہلے امریکہ میں کھٹملوں کی شکایت عام تھی۔ عام طور پر غریب گھروں اور سستے ہوٹلوں میں ان کی شکایت عام تھی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بین الاقوامی آمد و رفت میں اضافہ، امریکہ میں نقل مکانی اور کیٹریوں کا سدباب کرنے کے طریقے کار میں تبدیلی کھٹملوں پڑنے کا سبب بنے ہیں۔

ورجینیہ یونیورسٹی کے ایک ماہر ڈینی ملر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دنیا بھر میں کھٹملوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں یہ نہیں بتا سکتی کہ کتنے لوگ کھٹملوں سے تنگ آ کر نہانے کے ٹبوں میں سوتے ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھٹمل پڑنے کی ایک وجہ یہ بھی کہ ان کو مارنے کے لیےبہت کم ایسی دوائیاں ہوتی ہیں جن کو گدوں پر چھڑکنے کی اجازت ہے۔

تحفظ ماحولیات کے ادارے نےگزشتہ پچاس سالوں میں کھٹملوں کے مارنے والی بہت سے دوائیوں کو مضر صحت قرار دے کر ان کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔