Tuesday, April 21, 2009

ہم جنس پرستی کی مخالفت مہنگی پڑی

ہم جنس پرستی کی مخالفت مہنگی پڑی

مس کیری

ہم جنس پرستی کے خلاف سخت موقف کی وجہ سے مس امریکہ کا تاج جیتنے میں ناکام ہوئی: مس کیلیفورنیا

مس امریکہ نامی مقابلہ حسن میں دوسرے نمبر پر آنے والی مس کیلیفورنیا کیری پریجن نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کی سخت مخالفت کی وجہ سے وہ مقابلہ حسن جیت نہیں سکیں۔

ٹی وی پر براہ راست آنے والے مقابلہ حسن میں کیری پریجن نے کہا تھا کہ ان کا یقین ہے کہ شادی صرف مرد اور خاتون کے درمیان ہونی چاہیے۔

نامور شخصیات پر بلاگ لکھنے والے پریز ہیلٹن نے کہا ہے کہ مقابلہ حسن کے دوران ایک جج نے ہم جنس پرستی کے حوالے سے کیری پریجن سے ایک سوال کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کیری کے جواب کی وجہ سے امریکہ میں رہنے والے لاکھوں ہم جنس پرست، ان کے طرف دار اور ان کے رشتہ دار دل برداشتہ ہوئے ہیں۔

مس امریکہ کے مقابلے کے بعد مس کیلیفورنیا نے کہا ہے کہ ہم جنس پرستی کے خلاف سخت گیر مؤقف کی وجہ سے وہ مس امریکہ کا تاج جیتنے سے محروم ہوئیں ہیں۔ مقابلے کے دوران مس پریجن نے کہا تھا ’ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں آپ شادی کے لیے ہم جنس یا مخالف جنس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔‘ ان کے کہے گئے یہ الفاظ اب یوٹیوب پر کافی مشہور ہو چکے ہیں۔

ہم ایک ایسی سرزمین پر رہتے ہیں جہاں آپ شادی کے لیے ہم جنس اور یا مخالف جنس کا انتخاب کر سکتے ہیں

مس کیلیفورنیا

انہوں نے مزید کہا کہ شادی صرف مرد اور خاتون کے درمیان ہونی چاہیے اور اس پر لوگوں کو کوئی دکھ نہیں ہونا چاہیے۔ مس پریجن کے بیان پر حاضرین نے آوازیں کسیں اور بعض نے بیان کوسراہاں۔

شو کے بعد بات کرتے ہوئے مس کیری نے کہا کہ انہوں نے جو محسوس کیا وہ کہہ دیا اور جو رائے دی وہ ان کے نزدیک ٹھیک ہے اور صرف اتنا ہی کر سکتی ہیں۔

انہوں نے ایک ٹی وی چینل اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پرستی کے سوال کی وجہ سے وہ مقابلہ حسن میں کامیابی حاصل نہیں کر سکیں ہیں حالانکہ اس سے پہلے وہ یقیناً مقابلہ جیت جاتیں۔

مس امریکہ نامی مقابلہ حسن کے انعقاد کرنے والے کیتھ لیوس نے کہا ہے کہ مس پریجن کے بیان پر انہیں افسوس ہوا اور وہ رنجیدہ ہیں۔

واضح رہے کہ ہم جنس شادیوں کا مسئلہ امریکہ کی سیاست میں بہت نمایاں ہے اور اس وقت چار امریکی ریاستیں ہم جنس شادیوں کی قانونی اجازت دے چکی ہیں جبکہ بہت ساری دیگر ریاستیں اجازت دینے کے حوالے سے قانون سازی کر رہی ہیں۔

No comments:

Post a Comment