جنوبی ایشیائی ورزش سے دور
جائزے میں افریقی اور یورپی بچوں کو بھی شامل کیا گیا
ایک ریسرچ کے مطابق برطانیہ میں جنوبی ایشیائی بچے دوسرے بچوں کے مقابلے میں کم ورزش کرتے ہیں۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بچوں میں امراضِ قلب کے جائزے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایشیائی لوگوں میں بڑے ہو کر ٹائپ ٹو کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کاخطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اس جائزے میں برمنگھم، لیسٹر اور لندن کے نو سے دس سال کی عمر کے 2000 بچوں کا جائزہ لیا گیا۔
برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر مائک نیپٹن کا کہنا ہے کہ ایشیائی بچوں میں ورزش کا رجحان بڑھانے کی ضرورت ہے۔
اس جائزے میں افریقی اور یورپی بچوں کو بھی شامل کیاگیا تھا۔ برطانیہ کےجنوبی ایشیائی بچوں کا زیادہ تر وقت کمپیوٹرگیمز کھیلنے یا پھر ٹی وی کے سامنےگزرتا ہے اور وہ دوسرے برطانوی بچوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کم متحرک ہوتے ہیں۔
ان بچوں میں صرف پچپن فیصد بچے ہی اس معیار پر پورے اتر سکے جس کے تحت دن میں کم سے کم ایک گھنٹہ ہلکی ورزش کی جانی ضروری ہے۔ ان کے مقابلے ستر فیصد یورپی بچے اور 69 فیصد سیاہ فام بچے اس معیار پر پورے اترے۔
ڈاکٹر مائک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی نسل کے بچوں کو جسمانی طور پر متحرک رکھنے سے بڑی عمر تک ان کی صحت اچھی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس جائزے سے ہمیں اس بات کو سمجھنے میں بھی مدد ملےگی کہ برطانوی جنوب ایشیائی لوگوں میں ٹائپ ٹو قسم کی ذیا بیطس اور امراضِ قلب کا خطرہ کیوں ہوتا ہے اور اس خطرے کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment