شاہد ملک نے استعفیٰ دے دیا
شاہد ملک ڈیوزبری میں اپنے گھر کے باہر کھڑے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کرائے سے متعلق اخراجات میں بے قاعدگی کی ہے
برطانوی لیبر پارٹی کے رکن اور وزیرِ انصاف شاہد ملک نے اخبار ڈیلی ٹیلیگراف کی طرف سے لگائے گئے اخراجات میں بے قاعدگیوں کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت کی طرف سے دی گئی گھر کے کرائے کے متعلق مراعات کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ ان پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات سٹینڈرڈز کے سربراہ سر فلپ مائیر کر رہے ہیں۔
شاہد ملک نے اصرار کیا ہے کہ انہوں نے وزراء کے لیے بنائے گئے کسی کوڈ کو نہیں توڑا ہے اور وہ خوش ہیں کہ انہیں صفائی کا موقع ملا ہے۔
شاہد ملک نے جو ابھی تک اخراجات کے سکینڈل کے سب سے بڑے شکار ہیں، کہا ہے کہ میڈیا میں کردار کشی کو ختم ہونا چاہیئے۔
وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے سر فلپ کو کہا ہے کہ وہ جلد از جلد الزامات کی تحقیق کریں۔ یہ رپورٹ چند دنوں میں ہی سامنے آ سکتی ہے۔
اخبار ڈیلی ٹیلیگراف نے الزام لگایا ہے کہ شاہد ملک نے تین سالوں میں لندن میں اپنے دوسرے گھر کے لیے 66،827 پاؤنڈ حاصل کیے جبکہ انہوں نے اپنے انتخابی حلقے ڈیوزبری میں اپنے مرکزی گھر کے لیے سو پاؤنڈ فی ہفتہ کا رعایتی کرایہ حاصل کیا جو کہ وہ اپنی جیب سے ادا کرتے رہے۔
شاہد ملک کرائے سے متعلق لگائے گئے اس الزام کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment